آہ و فغاں

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - رونا پیٹنا، گریہ زاری، نوحہ و فریاد۔  اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں      ( بال جبریل، ١٩٣٥ء، ٨٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم 'آہ' کے ساتھ 'و' حرف عطف لگانے کے بعد فارسی زبان سے اسم 'فغاں' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٥ء میں "دیوان قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث